اول
معنی
١ - (ترتیب کے لحاظ سے) پہلا۔ "یہ اول جنگ تھی جس میں انگلینڈ اور فرانس کو فتح حاصل ہوئی۔" ( ١٩٠٤ء، محاربات عظیم، ١٦ ) ٢ - مقدم، قبل، موخر یا بعد کی ضد۔ "مختصر سیہ مگر اس فن میں وہی کتاب اول ہے۔" ( ١٩٢٣ء، نوراللغات، ٤٤٥:١ ) ٣ - بہتر، بڑھ کر، اعلٰی، افضل (مادی یا ذہنی اعتبار سے)۔ وہ مضمون ڈھونڈ کر باندھوں کو جو اشکل سے اشکل ہو کہوں وہ مطلع ثانی کہ جو اول سے اول ہو ( ١٨٩٩ء، امراؤ جان ادا، ١٩ ) ٤ - سابق، اگلا، پہلے زمانے کا۔ بہت کر چکے گھر میں آرام اٹھو اسی جوش اول سے لو کام اٹھو ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٢٨٧ ) ١ - آغاز، شروع۔ "اس کتاب کے اول آخر کے چار چار صفحے غائب ہیں۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٤٥:١ ) ٢ - خدا تعالٰی کا صفاتی نام، ازلی۔ خدا یا اول و آخر بھی تو ہے خدایا باطن و ظاہر بھی تو ہے ( ١٩١١ء، کلیات اسماعیل، ٧ ) ١ - پہلے، ابتدا یا آغاز میں۔ "جنگل میں بارش اول درختوں کے چھتر پر پڑ جاتی ہے۔" ( ١٩١٠ء، تربیت الصحرا، ٦٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت، متعلق فعل اور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٤٢١ء کو "شکار نامہ (شہباز)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (ترتیب کے لحاظ سے) پہلا۔ "یہ اول جنگ تھی جس میں انگلینڈ اور فرانس کو فتح حاصل ہوئی۔" ( ١٩٠٤ء، محاربات عظیم، ١٦ ) ٢ - مقدم، قبل، موخر یا بعد کی ضد۔ "مختصر سیہ مگر اس فن میں وہی کتاب اول ہے۔" ( ١٩٢٣ء، نوراللغات، ٤٤٥:١ ) ١ - آغاز، شروع۔ "اس کتاب کے اول آخر کے چار چار صفحے غائب ہیں۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٤٥:١ ) ١ - پہلے، ابتدا یا آغاز میں۔ "جنگل میں بارش اول درختوں کے چھتر پر پڑ جاتی ہے۔" ( ١٩١٠ء، تربیت الصحرا، ٦٧ )