اٹل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جو اپنی جگہ سے نہ ہلے، غیر متزلزل، قائم، ایک جگہ ٹھہرا ہوا، ثابت قدم، مستحکم "اس کے خیالات کی بنیاد اٹل . ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، تمغہ شیطانی، ٦٣ ) ٢ - اپنی بات سے نہ پھرنے والا، کسی بات پر جم جانے والا۔ "وہ اپنے اصول پر اس قدر اٹل ہیں کہ اب اگر میں . کوئی لفظ بھی زبان سے نکالوں تو . میرے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔"      ( ١٩٢٠ء، عزیزۂ مصر، ٦٠ ) ٤ - جسے ٹالا نہ جا سکے، ضروری، یقینی، قطعی، ناگزیر۔ "انجمن کے اندر سے کوئی ایسی قوت نہیں نکل سکتی . جس میں سے رگڑ نے اپنی اٹل کٹوتی نہ کاٹ لی ہو۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٣٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں 'ٹلنا' مصدر سے حاصل مصدر 'ٹل' ہے جس کے ساتھ 'اَ' بطور سابقہ نفی استعمال کیا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو اپنی جگہ سے نہ ہلے، غیر متزلزل، قائم، ایک جگہ ٹھہرا ہوا، ثابت قدم، مستحکم "اس کے خیالات کی بنیاد اٹل . ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، تمغہ شیطانی، ٦٣ ) ٢ - اپنی بات سے نہ پھرنے والا، کسی بات پر جم جانے والا۔ "وہ اپنے اصول پر اس قدر اٹل ہیں کہ اب اگر میں . کوئی لفظ بھی زبان سے نکالوں تو . میرے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔"      ( ١٩٢٠ء، عزیزۂ مصر، ٦٠ ) ٣ - جو نہ مٹے، برقرار، سدا رہنے والا۔ "وہاں کے ثواب مستقل اور عذاب اٹل ہیں۔" ٤ - جسے ٹالا نہ جا سکے، ضروری، یقینی، قطعی، ناگزیر۔ "انجمن کے اندر سے کوئی ایسی قوت نہیں نکل سکتی . جس میں سے رگڑ نے اپنی اٹل کٹوتی نہ کاٹ لی ہو۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٣٧ )