اٹنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - (کسی چیز سے کسی خالی جگہ کا) بھر جانا، پر ہونا، پٹ جانا۔ "چاہِ زم زم جو ایک مدت سے اٹ کر گم ہو گیا تھا انہوں نے اس کا پتا لگایا۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ١٥٦:١ ) ٢ - (خاک و غبار وغیرہ سے) آلودہ ہونا، لت پت ہونا۔ "الماری گرد و غبار سے اٹی پڑی ہوئی تھی۔"      ( ١٩٤٢ء، گنج ہائے گراں مایہ، ١١ ) ٣ - (گرد یا دھویں وغیرہ کا کسی جگہ) بیٹھ جانا، جم جانا، جمع ہو جانا۔ "گلے میں . تعویذ جن . میں میل اٹ کر کالی کالی لکیریں نظر آتی ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٢٩ )

اشتقاق

ہندی زبان سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور مصدر اور فعل لازم مستعمل ہے۔ اردو میں ١٧٠٨ء کو "داستان فتح جنگ" کے قلمی نسخے میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی چیز سے کسی خالی جگہ کا) بھر جانا، پر ہونا، پٹ جانا۔ "چاہِ زم زم جو ایک مدت سے اٹ کر گم ہو گیا تھا انہوں نے اس کا پتا لگایا۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ١٥٦:١ ) ٢ - (خاک و غبار وغیرہ سے) آلودہ ہونا، لت پت ہونا۔ "الماری گرد و غبار سے اٹی پڑی ہوئی تھی۔"      ( ١٩٤٢ء، گنج ہائے گراں مایہ، ١١ ) ٣ - (گرد یا دھویں وغیرہ کا کسی جگہ) بیٹھ جانا، جم جانا، جمع ہو جانا۔ "گلے میں . تعویذ جن . میں میل اٹ کر کالی کالی لکیریں نظر آتی ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٢٩ )