اٹوٹ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جو ٹوٹ نہ سکے، الگ نہ ہو، مستحکم۔ "ہر مکان ایک مضبوط گڑھ اور ہر کوچہ ایک اٹوٹ مورچہ کا کام دے گا۔"      ( ١٩٥٦ء، چنگیز، ٩٣ ) ١ - مسلسل، لگاتار۔  ایک سناٹا اٹوٹ اکثر اور اکثر اے ندیم دل کی ہر دھڑکن میں صد زیرو بم چنگ و رباب      ( ١٩٥٩ء، نغمہ، ٩٣ )

اشتقاق

ہندی زبان میں 'ٹوٹنا' مصدر سے 'ٹوٹ' اسم کیفیت ہے اور سنسکرت میں 'ترٹ' ان معنوں میں مستعمل ہے۔ ممکن ہے کہ ہندی زبان میں سنسکرت سے داخل ہوا ہو یا پھر اردو میں سنسکرت سے آیا ہو۔ البتہ قرین قیاس یہی ہے کہ ہندی سے اردو میں داخل ہوا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠١ء کو "سنگھاسن بتیسی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو ٹوٹ نہ سکے، الگ نہ ہو، مستحکم۔ "ہر مکان ایک مضبوط گڑھ اور ہر کوچہ ایک اٹوٹ مورچہ کا کام دے گا۔"      ( ١٩٥٦ء، چنگیز، ٩٣ )

اصل لفظ: ٹوٹنا