اٹکل

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - حس ذکی، وجدان، جبلی صلاحیت  دیکھا چشم غور سے تو ہے بدل ہر چیز کا بدلے آنکھوں کے ہے اٹکل کور مادر زاد کو      ( ١٨٦٧ء، رشک، دیوان(ق)، ٢٥٤ ) ٢ - قیاس، عقلی تکا، قرینہ (جس کی بنیاد علم و ادراک پر نہ ہو) "اٹکل سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر ایک بھی نہیں بچا۔"      ( ١٩٢٢ء گوشہ عافیت، پریم چند، ٢٣٠:١ ) ٣ - اندازہ، تخمین (وزن، شمار اور پیمائش کے بغیر)  پیمانے کی حاجت نہیں مجھ تشنہ مے کو اے پیر مغاں تو مجھے اٹکل سے پلا دے      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٠٤ ) ٤ - دریافت، وقوف (جس کی بنیاد ذوق یا فطری تمیز پر ہو)  کن حسینوں سے تم کو نسبت دوں سب سے اچھے ہو میری اٹکل میں      ( ١٨٦٨ء، رشک، (ق)، ٩٦ ) ٥ - سواد، پہچان، شناخت (تجربے یا تکرار کے بعد) "وہ اپنی دریافت مقصد کے باعث اپنے فن کی اٹکل بھی ہاتھ سے کھو بیٹھتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٣٢ )

اشتقاق

ہندی زبان کے لفظ 'اَٹْکَلَّ' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں مستعمل ہوا۔ سب سے پہلے ١٥٩٣ء، کو "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - قیاس، عقلی تکا، قرینہ (جس کی بنیاد علم و ادراک پر نہ ہو) "اٹکل سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر ایک بھی نہیں بچا۔"      ( ١٩٢٢ء گوشہ عافیت، پریم چند، ٢٣٠:١ ) ٥ - سواد، پہچان، شناخت (تجربے یا تکرار کے بعد) "وہ اپنی دریافت مقصد کے باعث اپنے فن کی اٹکل بھی ہاتھ سے کھو بیٹھتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٣٢ )

جنس: مؤنث