اٹکھیلی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - اٹھلائی ہوئی چال، (مجازاً) شوخی، شرارت، ناز و انداز۔ کچھ ہوا اٹکھیلیوں سے اس کی ایسا خندہ زن ہنستے ہنستے آنکھ میں شبنم کا آنسو آ گیا ( ١٩٠٦ء، کلام نیرنگ، ٢٤ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'اٹکھیل' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت و تانیث استعمال کی گئی ہے۔ ١٧٥٥ء کو یقین کے دیوان میں استعمال ہوا۔
جنس: مؤنث