اٹھارہ

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - دس اور آٹھ کا مجموعہ، سترہ اور انیس کے درمیان کا عدد (ہندسوں میں) 18۔ "میری ان کی اٹھارہ سال سے دانت کاٹی دوستی ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، خانم، عظیم بیگ چغتائی، ٢٤٥ ) ٢ - بڑھا چڑھا  کس کو ہے اس نے سحر میں مارا وہ جو ہے پانچ تو میں اٹھارا      ( ١٨٥٧ء، بحر الفت، ٥١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'ارشٹادش' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے مثنوی "کدم راو پدم راو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دس اور آٹھ کا مجموعہ، سترہ اور انیس کے درمیان کا عدد (ہندسوں میں) 18۔ "میری ان کی اٹھارہ سال سے دانت کاٹی دوستی ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، خانم، عظیم بیگ چغتائی، ٢٤٥ )