اٹھانا
معنی
١ - اٹھنا کا تعدیہ۔ "اس نے اس کو اپنے کاندھے پر اٹھایا۔" رجوع کریں: اُٹھنا ( ١٨٢٥ء، منتخبات ہندی، ٨:١ ) ٢ - آغاز کرنا، شروع کرنا۔ بٹھلا کے جوے کا ذکر اٹھا کر چوسر میں وہ لوٹتی سراسر ( ١٨٣٨ء، گلزار نسیم، ٤ ) ٣ - (پانی یا تری کو) جذب کرنا، کھینچنا۔ "کیا خراب جاذب ہے ذرا روشنائی نہیں اٹھاتا۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٢٦٥:١ ) ٤ - دے دینا، بخش دینا۔ "جس پر مہربان ہوئے توڑے کے توڑے اٹھا دیے۔" ( ١٨٩٢ء، امیراللغات، ٢، ٦٢ ) ٥ - اختیار کرنا، قبول کرنا۔ خون باری فراق سے گلپوش ہو گئے کپڑوں نے رنگ داغ جگر کا اٹھا لیا ( ١٨٥٤ء، دیوان صبا، غنچہ آرزو، ٢٩ ) ٦ - (شاعر کے شعر کا پہلا مصرعہ سن کر) بلند آواز سے دہرانا۔ (فرہنگ اثر، 135)
اشتقاق
سنسکرت زبان سے فعل لازم 'اٹھنا' کا تعدیہ ہے۔ اردو میں ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اٹھنا کا تعدیہ۔ "اس نے اس کو اپنے کاندھے پر اٹھایا۔" رجوع کریں: اُٹھنا ( ١٨٢٥ء، منتخبات ہندی، ٨:١ ) ٣ - (پانی یا تری کو) جذب کرنا، کھینچنا۔ "کیا خراب جاذب ہے ذرا روشنائی نہیں اٹھاتا۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٢٦٥:١ ) ٤ - دے دینا، بخش دینا۔ "جس پر مہربان ہوئے توڑے کے توڑے اٹھا دیے۔" ( ١٨٩٢ء، امیراللغات، ٢، ٦٢ )