اپاہجی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - اپاہج پن، معذوری۔ "درد اور کرب، اپاہجی اور بے چینی اس پر بھی ان کے ذوق کار کا یہ عالم تھا"۔ رجوع کریں: ( ١٩٦٦ء، نکتہ راز، ٤١٢ )
اشتقاق
'اپاہج' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت استعمال کی گئی۔ ١٩٦٦ء کو "نکتہ راز" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اپاہج پن، معذوری۔ "درد اور کرب، اپاہجی اور بے چینی اس پر بھی ان کے ذوق کار کا یہ عالم تھا"۔ رجوع کریں: ( ١٩٦٦ء، نکتہ راز، ٤١٢ )
اصل لفظ: اَپاہَج
جنس: مؤنث