اپھرانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - پھول جانا، سوجنا۔ "ان کے چہرے پر خوری کی وجہ سے اپھرائے ہوئے اور ان کی رگیں خون کے دباؤ سے پھٹی پڑتی تھیں۔"      ( ١٩٤١ء، پیاری زمین، ١٥٤ ) ٢ - غرور میں بھرنا، گھمنڈ کرنا۔  کثرت کے بھروسے پہ یہ اپھرائے ہوئے ہیں وحدت کے مٹانے کی قسم کھائے ہوئے ہیں      ( ١٩١٢ء شمیم، بیاض (ق)، ٣٨ )

اشتقاق

ہندی زبان کے مصدر 'اپھرنا' سے حاصل مصدر 'اپھر' کے ساتھ 'آنا' بطور امدادی فعل استعمال ہوا۔ کثرت استعمال سے 'اپھرآنا' مستعمل ہوا۔ اردو میں ١٥٠٣ء کو بحوالہ "دکنی اردو کی لغت" ص ١٢، "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھول جانا، سوجنا۔ "ان کے چہرے پر خوری کی وجہ سے اپھرائے ہوئے اور ان کی رگیں خون کے دباؤ سے پھٹی پڑتی تھیں۔"      ( ١٩٤١ء، پیاری زمین، ١٥٤ )

اصل لفظ: اَپَھرْنا