اپھرنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - پھولنا،ہوا بھرنے سے تن جانا۔  واعظ شہر تنک آب ہے مانند حباب ٹک ہوا لگتی ہے اس کو تو اپھر جاتا ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٦٤٥ ) ٢ - (بدہضمی یا حبس ریاح سے) پیٹ پھولنا، نفخ ہونا۔ "اتنا کھانا یا پینا کہ سانس پھولنے لگے اس کو بھی اپھرنا کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض، ١٥٠ ) ٣ - [ مجازا ]  گھمنڈ کرنا، اترانا، اکڑنا۔ "سب سے بڑی بات یہ تھی کہ دولت دیکھ کر اپھری نہیں اور بیوی بن کر بگڑی نہیں۔"      ( ١٩١٩ء، شب زندگی، ١، ٤٦ ) ٤ - ناخوش ہونا، منہ پھلانا۔ "چڑیا اسی طرح پھولی اپھری خاموش بیٹھی رہی۔"      ( ١٩٢٥ء، حکایات لطیفہ، ١،١٢١ )

اشتقاق

ہندی زبان سے مصدر ہے اردو میں داخل ہوا۔ ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - (بدہضمی یا حبس ریاح سے) پیٹ پھولنا، نفخ ہونا۔ "اتنا کھانا یا پینا کہ سانس پھولنے لگے اس کو بھی اپھرنا کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض، ١٥٠ ) ٣ - [ مجازا ]  گھمنڈ کرنا، اترانا، اکڑنا۔ "سب سے بڑی بات یہ تھی کہ دولت دیکھ کر اپھری نہیں اور بیوی بن کر بگڑی نہیں۔"      ( ١٩١٩ء، شب زندگی، ١، ٤٦ ) ٤ - ناخوش ہونا، منہ پھلانا۔ "چڑیا اسی طرح پھولی اپھری خاموش بیٹھی رہی۔"      ( ١٩٢٥ء، حکایات لطیفہ، ١،١٢١ )