اچنبھا
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - تعجب کی بات، عجیب بات یا کام۔ "ان کی ساس کا انتقال ہو گیا جو خاصی اچھی بڑھیا تھیں اور ان کی موت کچھ اچنبھا نہ تھا۔" ( ١٩٣٦ء، راشد الخیری، نالہ زار، ٦٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان میں 'ستمبھ' کے ساتھ 'اَ' سابقہ زائد ہے۔ اردو میں ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تعجب کی بات، عجیب بات یا کام۔ "ان کی ساس کا انتقال ہو گیا جو خاصی اچھی بڑھیا تھیں اور ان کی موت کچھ اچنبھا نہ تھا۔" ( ١٩٣٦ء، راشد الخیری، نالہ زار، ٦٢ )
جنس: مذکر