اچک
معنی
١ - اچکا، چور۔ "مجھے اس گھرانے کی چھٹ کسی لے بھاگ، اوچک، . ٹھگ سے کیا پڑی۔" ( ١٨٠٣ء، رانی کیتکی، ٣ ) ١ - اچھل کر بلندی پر جانے کی کیفیت، جست (جو اوپر کی طرف ہو)، اچھالا، (مجازاً) ارتقا، بلندی۔ "مرزا کی قوت متخیلہ میں . غیر معمولی اچک اور پرواز قدرت نے ودیعت کی تھی۔" ( ١٨٩٧ء، یادگار غالب، ١٩٦ ) ٢ - بڑھ کر یا اچھل کر (کسی چیز کو جھپٹ لینے کی کیفیت)۔ تارے فلک سے توڑ کے لاتا ہے بار بار اب تک بھی دست فکر میں اتنی اچک تو ہے ( ١٨٨٩ء، رونق سخن، ٢٧٣ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اصل لفظ 'وَچَّک' بمعنی 'اونچا ہونا' ہے۔ اردو میں 'اچک' مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٩ء کو "دیوان سلطان (ق)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اچکا، چور۔ "مجھے اس گھرانے کی چھٹ کسی لے بھاگ، اوچک، . ٹھگ سے کیا پڑی۔" ( ١٨٠٣ء، رانی کیتکی، ٣ ) ١ - اچھل کر بلندی پر جانے کی کیفیت، جست (جو اوپر کی طرف ہو)، اچھالا، (مجازاً) ارتقا، بلندی۔ "مرزا کی قوت متخیلہ میں . غیر معمولی اچک اور پرواز قدرت نے ودیعت کی تھی۔" ( ١٨٩٧ء، یادگار غالب، ١٩٦ )