اچکا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - اچک لینے والا، (کسی چیز کو) چھین جھپٹ کے لے بھاگنے والا، ہاتھ، چالاک۔  اس راہزن سے مل کر دل کیونکر کھو نہ بیٹھیں انداز و ناز اچکے، غمزہ اٹھائی گیرا      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٧٧ ) ١ - شاطر چور، جو دن دہاڑے مال اٹھا لے۔  دل نہ رکھ زلف میں اچکا ہے گانٹھ کترا اٹھائی گیرا ہے      ( ١٩٠٥ء، یادگار غالب، ١٧١ ) ٢ - بدمعاش، اوباش  لقوں والے، لچوں والے شُہدوں اور اچکوں والے      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٦١٢ ) ٣ - وہ گھٹیا چور جو چھوٹی موٹی چیز جو ہاتھ پڑے لے بھاگے، اٹھائی گیرا۔  دل اڑا کے لے گیا دزد حنا چور کو تم نے اچکا کر دیا      ( ١٩٣٦ء، ناز، گلدستہ ناز، ٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ 'اُچَک' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ صفت فاعلی استعمال کیا گیا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: اُچَک