اچکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - یکایک اوپر اٹھنا، ابھرنا۔ "وہ اس سبز مہرے کے زور سے اچک کر ہوا پر جاتا رہا۔"      ( ١٨٠٣ء، گل بکاولی، نہال چند، ٥٥ ) ٢ - چھلانگ مارنا، پھاندنا، جست کرنا۔ "ہم تیرھویں صدی سے اچک حال کی تہذیب میں نہ آ سکتے تھے۔"    ( ١٨٩٩ء، بست سالہ عہد حکومت، ٩٣ ) ٣ - اونچا ہو جانا، اچھلنا، پھدکنا۔ "اگر رگ اچکتی ہوئی محسوس ہو تو یہ بہت بڑی قسم کا ابھار ہو گا۔"    ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٨٠ ) ٤ - بلند پروازی کرنا (طبیعت وغیرہ کے ساتھ)۔ "جس شخص کے پیش نظر آفتاب ہے، ضرور ہے کہ اس شخص سے زیاد اچکے گا جس کی مدنظر زمین ہے۔"    ( ١٩١١ء، نشاط عمر، ٨٦ ) ٥ - ترقی کرنا، بڑا درجہ یا رتبہ پانا۔ "دستور ہے، خاندان میں ذرا اچک جائے پھر حشرات الارض کی طرح اعزہ و اقربا کی بم خدا جانے کہاں سے پھوٹ نکلتی ہے۔"    ( ١٩١٥ء، سجاد حسن، کایا پلٹ، ٢١ ) ٦ - پھڑک جانا، محظوظ ہونا۔  ہے ظہیر اس پہ عمل کل جدید ہے لذیذ تازہ مضمون پہ طبیعت بھی اوچک اٹھتی ہے    ( ١٨٩٩ء، دیوان ظہیر، ٢١٠:١ ) ١ - چھیننا، جھپٹنا، اڑا لینا، لے بھاگنا، چرا لینا (کسی شے کو)۔ "ساجد نے پیسہ آگے بڑھایا، زینب نے جلدی سے اسے اچک لیا۔"      ( ١٩٦١ء، برف کے پھول، کرشن چندر، ٣٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'اُچَک' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر استعمال کیا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - یکایک اوپر اٹھنا، ابھرنا۔ "وہ اس سبز مہرے کے زور سے اچک کر ہوا پر جاتا رہا۔"      ( ١٨٠٣ء، گل بکاولی، نہال چند، ٥٥ ) ٢ - چھلانگ مارنا، پھاندنا، جست کرنا۔ "ہم تیرھویں صدی سے اچک حال کی تہذیب میں نہ آ سکتے تھے۔"    ( ١٨٩٩ء، بست سالہ عہد حکومت، ٩٣ ) ٣ - اونچا ہو جانا، اچھلنا، پھدکنا۔ "اگر رگ اچکتی ہوئی محسوس ہو تو یہ بہت بڑی قسم کا ابھار ہو گا۔"    ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٨٠ ) ٤ - بلند پروازی کرنا (طبیعت وغیرہ کے ساتھ)۔ "جس شخص کے پیش نظر آفتاب ہے، ضرور ہے کہ اس شخص سے زیاد اچکے گا جس کی مدنظر زمین ہے۔"    ( ١٩١١ء، نشاط عمر، ٨٦ ) ٥ - ترقی کرنا، بڑا درجہ یا رتبہ پانا۔ "دستور ہے، خاندان میں ذرا اچک جائے پھر حشرات الارض کی طرح اعزہ و اقربا کی بم خدا جانے کہاں سے پھوٹ نکلتی ہے۔"    ( ١٩١٥ء، سجاد حسن، کایا پلٹ، ٢١ ) ١ - چھیننا، جھپٹنا، اڑا لینا، لے بھاگنا، چرا لینا (کسی شے کو)۔ "ساجد نے پیسہ آگے بڑھایا، زینب نے جلدی سے اسے اچک لیا۔"      ( ١٩٦١ء، برف کے پھول، کرشن چندر، ٣٦ )

اصل لفظ: اُچَک