اکڑنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - اینٹھ کر سخت ہو جانا، اعضا کا سن کا اور بے حس و حرکت ہو جانا، ٹھٹھرنا، سکڑنا۔ "چاول اکڑ گئے۔"    ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٣٦٢:١ ) ٢ - غور یا اتراہٹ سے اینڈنا، تننا۔ "اپنے کذب و افترا پر نادم ہونے کے عوض اور زیادہ اکڑتا اور فخر کرتا ہے۔"    ( ١٩٢٣ء، مخدرات، ٨١ ) ٣ - سینہ تان کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا۔ "تین طوافوں میں اکڑ کے دوڑے۔"    ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٢٤٧:١ ) ٤ - سرکشی کرنا، بل کھانا، تیور بگاڑنا، خفا ہونا۔ "اکڑ کر بولی، ترقی کیوں نہیں ہوئی۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٤٢ ) ٥ - ہٹ کرنا، اڑنا، ڈھٹائی کرنا۔ "یہ کم کھاتا ہے، کم پیتا ہے، کم اکڑتا ہے، کم لادتا ہے کم کھینچتا ہے اور . اور کم خمیدہ ہے۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'آنک+کرنیم' سے 'اکڑنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل لازم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اینٹھ کر سخت ہو جانا، اعضا کا سن کا اور بے حس و حرکت ہو جانا، ٹھٹھرنا، سکڑنا۔ "چاول اکڑ گئے۔"    ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٣٦٢:١ ) ٢ - غور یا اتراہٹ سے اینڈنا، تننا۔ "اپنے کذب و افترا پر نادم ہونے کے عوض اور زیادہ اکڑتا اور فخر کرتا ہے۔"    ( ١٩٢٣ء، مخدرات، ٨١ ) ٣ - سینہ تان کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا۔ "تین طوافوں میں اکڑ کے دوڑے۔"    ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٢٤٧:١ ) ٤ - سرکشی کرنا، بل کھانا، تیور بگاڑنا، خفا ہونا۔ "اکڑ کر بولی، ترقی کیوں نہیں ہوئی۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٤٢ ) ٥ - ہٹ کرنا، اڑنا، ڈھٹائی کرنا۔ "یہ کم کھاتا ہے، کم پیتا ہے، کم اکڑتا ہے، کم لادتا ہے کم کھینچتا ہے اور . اور کم خمیدہ ہے۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٦ )