اکہرا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ایک تہ کا، ایک پرت کا، دوہرا کی ضد۔ "مزے سے اکہرا کرتا ڈانٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ٣٤ ) ٢ - تنہا، اکیلا۔ "ایک طرف کو کاٹ اکہرا دلان۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ١٥١ ) ٣ - چھوہرا، دبلا (بدن)۔  قبالے حور کا جو پھول ہے سنہرا ہے کمر ہر اک ہے پتلی بدن اکہرا ہے      ( ١٨١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ١٤:٤ ) ٥ - ایک "غلطی کریں تو اکہرا ثواب لوٹیں، صحیح حکم دیں تو دہرا ثوب ملے۔"      ( اودھ پنچ لکھنؤ، ٩، ١٠:٢٢ ) ٦ - [ مجازا ]  ہلکا، خفیف سا، معمولی (حاجب یا حائل وغیرہ)۔  اب تو اگلی سی طرح کا نہیں گہرا پردہ رہ گیا آپ میں اور ہم میں اکہرا پردہ      ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ٢١ ) ٧ - دورخ کی بجاے ایک رخ چلنے والا۔ "ایک بارگی ان کا سانس اکہرا ہو گیا۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ١١٩ ) ٨ - غیر شادی شدہ، کنوارا۔ "مہذب تو پہلے ہی تھے مگر اکہرے اب ڈبل یعنی دہرے ہو کر آئے۔"      ( ١٩٢٠ء، احمق الذین، ٨٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'ایک+وار+ک' سے 'اکہرا' بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨١٨ء کو "کلیات انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک تہ کا، ایک پرت کا، دوہرا کی ضد۔ "مزے سے اکہرا کرتا ڈانٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ٣٤ ) ٢ - تنہا، اکیلا۔ "ایک طرف کو کاٹ اکہرا دلان۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ١٥١ ) ٥ - ایک "غلطی کریں تو اکہرا ثواب لوٹیں، صحیح حکم دیں تو دہرا ثوب ملے۔"      ( اودھ پنچ لکھنؤ، ٩، ١٠:٢٢ ) ٧ - دورخ کی بجاے ایک رخ چلنے والا۔ "ایک بارگی ان کا سانس اکہرا ہو گیا۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ١١٩ ) ٨ - غیر شادی شدہ، کنوارا۔ "مہذب تو پہلے ہی تھے مگر اکہرے اب ڈبل یعنی دہرے ہو کر آئے۔"      ( ١٩٢٠ء، احمق الذین، ٨٦ )

جنس: مذکر