اکیس

قسم کلام: صفت عددی ( واحد )

معنی

١ - بیس اور ایک، نو کم تیس، (ہندسوں میں) 21۔ "عہد حکومت . اکیس سال تھا۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٩١ ) ٢ - فائق، بڑھ چڑھ کر (بیس کے بالمقابل)۔ "میں ہاتھ پاؤں میں اکیس تو، دھنیگا، گیڈر بھبکیاں غضب کی۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، آوارہ، ٦٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'ایک وم شت' سے 'اکیّس' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧١٩ء کو "جنگ نامۂ عالم علی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیس اور ایک، نو کم تیس، (ہندسوں میں) 21۔ "عہد حکومت . اکیس سال تھا۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٩١ ) ٢ - فائق، بڑھ چڑھ کر (بیس کے بالمقابل)۔ "میں ہاتھ پاؤں میں اکیس تو، دھنیگا، گیڈر بھبکیاں غضب کی۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، آوارہ، ٦٩ )