اکیلا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تنہائی، خلوت۔ "کوئی وکیل بھی . جرح کے سوال گواہ سے اکیلے میں بیٹھ کر کرتا ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٣، ٣:٣ ) ١ - تنہا، جس کے ساتھ دوسرا نہ ہو، واحد، ایک۔ "اکیلا ہی . اس پرانے خاندان کی یادگار ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١١٣:٣ ) ٢ - وہ مقام جہاں کوئی دوسرا نہ ہو، سنسان اور خالی مکان یا جگہ۔  اکیلا گھر شب فرقت میں ویرانے سے بدتر ہے مہیب آتی ہیں آوازیں درو دیوار و ایواں سے      ( ١٨٩١ء، اشک، معیار نظم، ٢٦٦ ) ٣ - یکتا، لاثانی، فرد، بے مثل، لاجواب۔  جان کیا چیز ہے ایمان پہ کھیلا ہے تو پسر سعد کے چیلوں میں اکیلا ہے تو      ( ١٩٣١ء، محب، مراثی، ١٢٩ ) ١ - بلاشرکت غیرے، صرف، فقط، محض۔ "عورت کو اس کی طبیعت پر اکیلا چھوڑ دے کہ گھنٹے آدھ گھنٹے میں وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لے۔"      ( ١٩٢٤ء، عصائے پیری، ١٧٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'اک+لا' سے 'اکیلا' بنا۔ اردو میں بطور صفت اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٠٠ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تنہائی، خلوت۔ "کوئی وکیل بھی . جرح کے سوال گواہ سے اکیلے میں بیٹھ کر کرتا ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٣، ٣:٣ ) ١ - تنہا، جس کے ساتھ دوسرا نہ ہو، واحد، ایک۔ "اکیلا ہی . اس پرانے خاندان کی یادگار ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١١٣:٣ ) ١ - بلاشرکت غیرے، صرف، فقط، محض۔ "عورت کو اس کی طبیعت پر اکیلا چھوڑ دے کہ گھنٹے آدھ گھنٹے میں وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لے۔"      ( ١٩٢٤ء، عصائے پیری، ١٧٠ )

جنس: مذکر