اگنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - گھاس یا بیج کا مٹی سے پھوٹ نکلنا، اپجنا۔ "یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی زمین ہے جس میں سے وہ اگتے ہیں . مگر کتنے رنگ برنگ کے پھل پھول . لگتے ہیں۔"    ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٦٦:٤ ) ٢ - (پودے کا) زمین سے پھوٹ کر نشوونما پانا، سرسبز ہونا، پھول پتیاں نکالنا۔  اگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالب ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے    ( ١٨٢٩ء، غالب، دیوان، ٣٣٤ ) ٣ - (سورج وغیرہ کا) نمودار ہونا، طلوع ہونا۔  وہ بھیروں راگ کا ہے یہ سمایا کہ اک دن صبح سے سورج اُگ آیا      ( ١٧٥٩ء، راگ مالا (قلمی نسخہ)، عزلت، ٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'اد+گمنیم' سے 'اگنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل لازم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٧٢ء کو "کلیات علی عادل شاہ ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھاس یا بیج کا مٹی سے پھوٹ نکلنا، اپجنا۔ "یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی زمین ہے جس میں سے وہ اگتے ہیں . مگر کتنے رنگ برنگ کے پھل پھول . لگتے ہیں۔"    ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٦٦:٤ )

اصل لفظ: اد+گمنیم