اہتمام

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - انتظام، بندوبست، نگرانی اور دیکھ بھال۔ "کتاب کی تیاری اور تکمیل اہتمام کے ساتھ ہوئی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، مقدمہ، سفر نامۂ مخلص، ٦٥ ) ٢ - سرانجام "آنحضرتۖ سفر میں جاتے تو . مسواک کا اہتمام انہی کے متعلق ہوتا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٩٤:٢ ) ٣ - کوشش، جدو جہد۔ "اس تکلیف فرمائی اور اہتمام بلیغ کا سبب صرف توقع ذاتی نہ تھا۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٤ ) ٤ - (کسی امر میں اس کی اہمیت کے باعث) غیر معمولی توجہ یا مشغولیت۔ "نماز جمعہ کا اہتمام مسلمانوں میں پہلے اتنا نہ تھا جتنا کہ ہونا چاہیے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٤:٢ ) ٥ - قصد، ارادہ۔  بت کدے سے جو دل اِچاٹ ہوا اٹھ کے کعبے کا اہتمام کیا      ( ١٩٠٣ء، دیوان حفیظ جونپوری، ٢٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انتظام، بندوبست، نگرانی اور دیکھ بھال۔ "کتاب کی تیاری اور تکمیل اہتمام کے ساتھ ہوئی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، مقدمہ، سفر نامۂ مخلص، ٦٥ ) ٢ - سرانجام "آنحضرتۖ سفر میں جاتے تو . مسواک کا اہتمام انہی کے متعلق ہوتا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٩٤:٢ ) ٣ - کوشش، جدو جہد۔ "اس تکلیف فرمائی اور اہتمام بلیغ کا سبب صرف توقع ذاتی نہ تھا۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٤ ) ٤ - (کسی امر میں اس کی اہمیت کے باعث) غیر معمولی توجہ یا مشغولیت۔ "نماز جمعہ کا اہتمام مسلمانوں میں پہلے اتنا نہ تھا جتنا کہ ہونا چاہیے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٤:٢ )

جنس: مذکر