اہل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - لائق، مستحق، سزاوار، صلاحیت رکھنے والا، شائستہ (بلا ترکیب اضافی)۔ "ہم اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں پاتے۔"      ( ١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، ٣٠ ) ٢ - صاحب، اصحاب، والا یا والے، جیسے: اہل عقل (عقل رکھنے والا، صاحب عقل) (ترکیب اضافی میں)۔ "مجنوں از بسکہ اہل فن تھا اس کو لیلٰی کے اشعار بہت پسند آتے تھے۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، شریف زادہ، ٥٩ ) ٣ - باشندے، رہنے والے۔ "تاریخ اس کے بھی جلوس کی . اہل ہند کے دفتروں میں ثبت ہوئی۔"      ( ١٨٠٥ء آرائش محفل، افسوس، ٣٣٢ ) ١ - بیوی، زوجہ (عموماً عیال کے ساتھ مستعمل)۔ "اہل و عیال کو لے کر کشتی میں سوار ہو جاؤ۔"      ( ١٩٥٨ء، آزاد (ابوالکلام)، مضامین، ١٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لائق، مستحق، سزاوار، صلاحیت رکھنے والا، شائستہ (بلا ترکیب اضافی)۔ "ہم اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں پاتے۔"      ( ١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، ٣٠ ) ٢ - صاحب، اصحاب، والا یا والے، جیسے: اہل عقل (عقل رکھنے والا، صاحب عقل) (ترکیب اضافی میں)۔ "مجنوں از بسکہ اہل فن تھا اس کو لیلٰی کے اشعار بہت پسند آتے تھے۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، شریف زادہ، ٥٩ ) ٣ - باشندے، رہنے والے۔ "تاریخ اس کے بھی جلوس کی . اہل ہند کے دفتروں میں ثبت ہوئی۔"      ( ١٨٠٥ء آرائش محفل، افسوس، ٣٣٢ ) ١ - بیوی، زوجہ (عموماً عیال کے ساتھ مستعمل)۔ "اہل و عیال کو لے کر کشتی میں سوار ہو جاؤ۔"      ( ١٩٥٨ء، آزاد (ابوالکلام)، مضامین، ١٨ )

اصل لفظ: انل