ایجاد

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - کسی نئی بات یا چیز کی تخلیق، اختراع۔ "ایجاد خوردبین و دوربین سے پہلے میں نے اس کو دریافت کر لیا ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ١١٧ ) ٢ - وجود، عدم سے وجود میں لانا۔ "عالم کی ایجاد اور تخلیق کی غایت بھی خود حق تعالٰی کی اپنی مقدس ذات میں ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ٢، ٨٧٩:١ ) ٣ - نئی پیدا کی ہوئی چیز یا بات، جدت، (مجازاً) کارستانی۔  یہ نگاہ شوق ہے جدت پسند ہر ادا میں کچھ نہ کچھ ایجاد ہو      ( ١٩٠٣ء، دیوان حفیظ جونپوری، ١١٢ ) ٤ - [ مجازا ]  موجودات، کائنات۔  دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا یہ طول اس خلاصۂ ایجاد سے ہوا      ( ١٩٢٣ء، انجم کدہ، ٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی نئی بات یا چیز کی تخلیق، اختراع۔ "ایجاد خوردبین و دوربین سے پہلے میں نے اس کو دریافت کر لیا ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ١١٧ ) ٢ - وجود، عدم سے وجود میں لانا۔ "عالم کی ایجاد اور تخلیق کی غایت بھی خود حق تعالٰی کی اپنی مقدس ذات میں ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ٢، ٨٧٩:١ )

اصل لفظ: وجد