ایسا

قسم کلام: ضمیر اشارہ

معنی

١ - یہ، اسم اشارہ کے معنی میں۔ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جہاز کے غرق ہو جانے سے . نقصان ہوا تھا"      ( ١٩٢٩ء، مضامین، شرر، ٤٤:٣ ) ١ - (کسی چیز کی) مثل یا مانند، سا۔ "اقبال ایسا عظیم انسان ہی "بانگ درا" کی تخلیق کا سبب بن سکتا ہے"۔مرتب ٢ - اس طرح، اس صورت سے، یوں۔(جیسا، جیسے کے ساتھ) "جو پڑھا اور اس پر عمل نہ رکھتا ہو سو ایسا ہوئے جیسے بغیر لگام کا گھوڑا"۔      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز دلبر، ٢٨١ ) ١ - اس قدر، اتنا، (اچھائی یا برائی کے بیان میں بطور سابقہ)۔  ہمیں سے اس قدر رغبت، ہمیں سے سرگراں ایسے کبھی تم مہرباں ایسے کبھی نامہرباں ایسے      ( ١٩٥٨ء، تارِ پیراہن، ٥٥ ) ٢ - اس شکل کا اس قسم کا۔ "ایسا قلمدان ہر ایک سے بننا دشوار ہے"۔      ( ١٩٤٤ء، نوراللغات، ٤٥٦:١ ) ٣ - ان اوصاف کا، یہ خوبی یا خامی رکھنے والا۔ "ایسوں کو کہیں سے تحت الشعور ادھار مانگنا پڑے گا"۔      ( ١٩٤٨ء، پرواز، ٩٠ ) ٥ - اتنا، جیسا وغیرہ کے معنوں میں۔  صبر کے خرمن پہ اے مانی جو یہ بجلی گری اک بلا ہے جس کا امید ایسا پیارا نام ہے      ( ١٩٢٩ء، نقوشِ مانی، مانی، ١٣٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں 'ادّشا' استعمال ہوتا ہے اردو میں وہاں سے داخل ہوا اور اصل صورت میں 'کدم راو پدم راو" میں ١٤٣٥ء میں استعمال ہوا۔

مثالیں

١ - یہ، اسم اشارہ کے معنی میں۔ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جہاز کے غرق ہو جانے سے . نقصان ہوا تھا"      ( ١٩٢٩ء، مضامین، شرر، ٤٤:٣ ) ١ - (کسی چیز کی) مثل یا مانند، سا۔ "اقبال ایسا عظیم انسان ہی "بانگ درا" کی تخلیق کا سبب بن سکتا ہے"۔مرتب ٢ - اس طرح، اس صورت سے، یوں۔(جیسا، جیسے کے ساتھ) "جو پڑھا اور اس پر عمل نہ رکھتا ہو سو ایسا ہوئے جیسے بغیر لگام کا گھوڑا"۔      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز دلبر، ٢٨١ ) ٣ - اس طرح، اس صورت سے، یوں۔ (جیسا وغیرہ کے بغیر)۔ "تم ان سے صاف صاف کہہ دینا کہ میر صاحب ایسا کہتے ہیں۔" ٢ - اس شکل کا اس قسم کا۔ "ایسا قلمدان ہر ایک سے بننا دشوار ہے"۔      ( ١٩٤٤ء، نوراللغات، ٤٥٦:١ ) ٣ - ان اوصاف کا، یہ خوبی یا خامی رکھنے والا۔ "ایسوں کو کہیں سے تحت الشعور ادھار مانگنا پڑے گا"۔      ( ١٩٤٨ء، پرواز، ٩٠ )

جنس: مذکر