ایمان

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (اسلام کے شرائط کے مطابق) دل سے خدا، کا یقین اور زبان سے اقرار۔ "ایمان و کفر . کے وجوہ منطقی طرز استدلال سے نہیں بلکہ زیادہ تر نفسیاتی اصول و قواعد سے ماخوذ ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٣:٣ ) ٢ - [ مجازا ]  وہ چیز جو کسی کی نگاہ میں دین و ایمان کی طرح لائق احترام اور جان و دل سے محبوب ہو، مرکز عقیدت، بہت عزیز۔  میری تو یہ کائنات غم بھی جان و ایمان ہو گئی ہے      ( ١٩٥٩ء، گل نغمہ، فراق، ٩٩ ) ٣ - حق اور انصاف، دیانت داری۔ "تم کو تعلیم دینا اور پھر ممتحن رہنا میرے ایمان کے خلاف ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، نواب صاحب کی ڈائری، ١٩ ) ٤ - نیت (بگڑنا بھسلنا وغیرہ افعال کے ساتھ)۔ "روپیہ وہ چیز ہے کہ بڑے بڑوں کا ایمان بدل جاتا ہے۔"      ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٣٢٠:٢ ) ٥ - اعتقاد، یقین، عقیدہ۔  یہ عجب جنگ ہے اس دور زمانہ میں رواں اس طرف توپ ادھر ڈھال ہے ایمانوں کی      ( ١٩٢٦ء، روح رواں، ٧٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (اسلام کے شرائط کے مطابق) دل سے خدا، کا یقین اور زبان سے اقرار۔ "ایمان و کفر . کے وجوہ منطقی طرز استدلال سے نہیں بلکہ زیادہ تر نفسیاتی اصول و قواعد سے ماخوذ ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٣:٣ ) ٣ - حق اور انصاف، دیانت داری۔ "تم کو تعلیم دینا اور پھر ممتحن رہنا میرے ایمان کے خلاف ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، نواب صاحب کی ڈائری، ١٩ ) ٤ - نیت (بگڑنا بھسلنا وغیرہ افعال کے ساتھ)۔ "روپیہ وہ چیز ہے کہ بڑے بڑوں کا ایمان بدل جاتا ہے۔"      ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٣٢٠:٢ )

اصل لفظ: امن
جنس: مذکر