باب
معنی
١ - لائق، شایان، درخود، قابل، شائستہ۔ دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا عشق نبرد پیشہ، طلب گار مرد تھا ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٥٤ ) ١ - دروازہ۔ "سلطان . کا مزاج . کسل مند ہے، باب ملاقات . بند ہے۔" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٦٧:١ ) ٢ - معاملہ، تعلق، حق، بابت، امر، بارے (میں)۔ "انتقاد کے باب میں جن دشواریوں . کا ابھی ذکر ہوا ہے۔" ( ١٩٢٣ء، سیف و سبو (دیباچہ)، جوش، ١٠ ) ٣ - نمائندہ۔ "ان کا . یہ دعویٰ ہے کہ یہ امام منتظر کے باب ہیں۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین شرر، ١٢٠:٣ ) ٥ - عربی مصادر و افعال کے اوزان میں سے ہر ایک جو ان کی خاصیت کے اعتبار سے مقرر ہے۔ "مصدر بکسر الف مصدر باب افعال ہے مضبوط ہونا۔" ( ١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ٥١:١ ) ٦ - نوع، طرح، شق، مد۔ "اہل عرب . صفائی کا نام نہیں جانتے تھے، اس بنا پر اس خاص باب میں آپ کو نہایت اہتمام کرنا پڑا تھا۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ١٠٦:٢ ) ٧ - دفعہ، ادھیا، حد۔ (فرہنگ آصفیہ، 24:1) ٨ - دربار، درگاہ، جیسے : باب عالی (فرہنگ آصفیہ، 340:1؛ نوراللغات، 487:1)
اشتقاق
عربی زبان میں اسم جامد ہے اور عربی زبان سے ہی اردو میں ماخوذ ہے اور اصلی حالت میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ گاہے بطور صفت بھی مستعمل ملتا ہے سب سے پہلے ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دروازہ۔ "سلطان . کا مزاج . کسل مند ہے، باب ملاقات . بند ہے۔" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٦٧:١ ) ٢ - معاملہ، تعلق، حق، بابت، امر، بارے (میں)۔ "انتقاد کے باب میں جن دشواریوں . کا ابھی ذکر ہوا ہے۔" ( ١٩٢٣ء، سیف و سبو (دیباچہ)، جوش، ١٠ ) ٣ - نمائندہ۔ "ان کا . یہ دعویٰ ہے کہ یہ امام منتظر کے باب ہیں۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین شرر، ١٢٠:٣ ) ٥ - عربی مصادر و افعال کے اوزان میں سے ہر ایک جو ان کی خاصیت کے اعتبار سے مقرر ہے۔ "مصدر بکسر الف مصدر باب افعال ہے مضبوط ہونا۔" ( ١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ٥١:١ ) ٦ - نوع، طرح، شق، مد۔ "اہل عرب . صفائی کا نام نہیں جانتے تھے، اس بنا پر اس خاص باب میں آپ کو نہایت اہتمام کرنا پڑا تھا۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ١٠٦:٢ )