بات
معنی
١ - لفظ، بول، کلمہ، فقرہ، جملہ، گفتگو، قول۔ چلا جب یہ کہہ کر پکارا اسے یہ بات اور پیغام بر رہ گئی ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ١٧٣ ) ٢ - مقولہ، کہاوت۔ زلف رخ پر جو چھٹی رات ہوئی یا نہ ہوئی کیوں، نہ کہتا تھا مری بات ہوئی یا نہ ہوئی ( ١٨٢٦ء، معروف (فرہنگ آصفیہ، ٢٤٧:٤) ) ٣ - امر، معاملہ۔ "آپ نے کتاب . بھیجنے کا وعدہ کیا تھا . آپ کے حافظے سے یہ بات اتر گئی۔" ( ١٩٢٧ء، ) ٤ - خیال۔ "میرے دل میں اک بات آئی ہے۔" ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ابوالحسن منصور، ١٥:٦ ) ٥ - ذکر، تذکرہ۔ جو دیکھے گا روتے مجھے تم کو ہنستے مری بات چھوڑو تمھیں کیا کہے گا ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٣٠ ) ٦ - واقعہ، ماجرا، سرگزشت۔ بات اک یاد آئی ہے مجھ کو میری آنکھوں کے آگے گزری جو ( ١٨٧٣ء، کلیات منیر، ٥٦١:٣ ) ٧ - خصوصیت، امتیاز۔ آدمی کی زندگانی میں کوئی تو بات ہے دو فرشتے لکھ رہے ہیں داستان زندگی ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ٢٣٨ ) ٨ - بحث، قیل و قال، حجت۔ یہاں بات کی اب سوائی نہیں نبی اور علی میں جدائی نہیں ( ١٧٨٤ء، سحرالبیان، ٢١ ) ٩ - سج دھج، ٹھاٹ۔ ایسا دربار مگر تو نے نہ دیکھا ہو گا بات یہ ان میں نہ ہو گی نہ یہ ساماں ہوں گے ( ١٩١٥ء، کلام محروم، ٩٨:١ ) ١٠ - خوبی، عمدہ صفت۔ بے جس کے اندھیر ہے سب کچھ، ایسی بات ہے اس میں کیاجی کا ہے یہ باؤ لاپن یا بھولی بھالی آنکھیں ہیں ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٦٧ ) ١١ - حالت، کیفیت۔ "پانچ پیسوں کے لیے بلک رہی تھی . مجھے کیا خبر تھی کہ . اس کی یہ گت ہو جائے گی۔ میرے چلتے وقت گو وہ بات نہ رہی تھی مگر پھر بھی یہ ہدڑا تو نہ تھا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٢٩ ) ١٢ - طریقہ، روش، دستور، طور۔ "عیسائی مذہب کی ایک یہ بات بھی میرے ذہن میں کھٹکتی ہے۔" ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ١١٠ ) ١٣ - آبرو، عزت، ساکھ، بھرم۔ "سید کاظم نے فاقے قبول کیے، مگر باپ کی بات کو ہاتھ سے نہ دیا۔" ١٤ - منگنی، لڑکی کی شادی کا پیام سلام، بیاہ کی نسبت۔ "بچی کو دیکھ دیکھ کر اس کے ہوش اڑے جاتے تھے مگر کوئی بات ڈھنگ کی نہ ملتی تھی۔" ( ١٩٢٩ء، تمغہ شیطانی، ٦ ) ١٥ - اصول؛ مقصد۔ بے غرق ہوئے کوئی ابھرتا ہی نہیں ہے جو بات پہ مرتا ہے، وہ مرتا ہی نہیں ہے ( ١٩٤٩ء، سموم و صبا، ١٣٤ ) ١٦ - بھید، راز، رمز، نکتہ۔ غوطے کھلواتی ہیں یہ رمزیں تری اے بحر حسن تھاہ اک اک بات کی دو دوپہر ملتی نہیں ١٧ - عہد، قول و قرار، قسم، پیمان۔ "کچھ ہی ہو، بات ہے تو سب کچھ ہے۔ اب تو جو عہد کر لیا، خدا نے چاہا تو اس فتنے کو کبھی منہ نہ لگاؤں گا۔" ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ٥٠ ) ١٨ - عادت جاریہ، روزمرہ کا مشغلہ، معمول۔ جھڑکی تو مدتوں سے مساوات ہو گئی گالی کبھی نہ دی تھی سو اب بات ہو گئی ( ١٩٢١ء، فغان اشرف، ١٧ ) ١٩ - مآل، پھل۔ دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی ساتھ لے نیکی کا بدلا نیک ہے بد سے بدی کی بات لے ( ١٨٣٠ء، نظیراکبر آبادی، (مضامین فرحت)، ٢٤:٦ ) ٢٠ - عندیہ، ما فی الضمیر۔ ہاں ہاں تری بات اب میں سمجھی ہے بات یہی قسم خدا کی ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٢٩٩ ) ٢١ - طرز بیان۔ ایک مطلب ہیں بات کا ہے فرق بت اسے کہیے یا خدا کہیے ( ١٩٤٦ء، فغان آرزو، ٢٣٥ ) ٢٢ - معمولی چیز، ادنٰی سا کرشمہ، ادنٰی اور سہل کام۔ تم جو بوسہ دو تو کھولوں میں دہن کا عقدہ بات ہے باندھنا مضموں مجھے دقت کیا ہے ( ١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ٣٣١ ) ٢٣ - مدت قلیل، پلک جھپکنے کی مدت۔ ناکام کا یوں کام، ملاقات میں بن جائے برسوں کا جو بگڑا ہو وہ اک بات میں بن جائے ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٦:١ ) ٢٤ - بہانہ، حیلہ۔ محبت دل میں جب ہوتی ہے، انساں کیا نہیں کرتا شکایت کی فقط اک بات ہے آزردہ ہونا تھا ( ١٨٩٢ء، وحید الہ آبادی، انتخاب، وحید، ٢٣ ) ٢٥ - امر نازیبا، ناشائستہ عمل، قابل اعتراض فعل۔ "اس نے تو ایسی بات کی، جس نے ہمارے خاندان کی عزت کو خاک میں ملا دیا۔" ٢٦ - نصیحت، پند، مشورہ۔ "کوئی ہے جو سو روپے میں ایک بات خریدے۔" ( ١٩٦٣ء، ساڑھے تین یار، ١٠٨ ) ٢٧ - امراہم، قابل اعتنا۔ بات ہی کیا ہے اک بلا نہ رہے نہ رہے جان مبتلا نہ رہے ( ١٩١٦ء، نقوش مانی، ٢٧ ) ٢٨ - درخواست، التجا، حکم، فرمان۔ جو کہا میں نے سمجھ سوچ کے وہ مان گئے شکر ہے آج مری بات اکارت نہ گئی ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٦٨ ) ٢٩ - کارنمایاں، امر عظیم۔ کس تیغ کے ہو منہ سے وہ بات اس سے جو ہوئی زخمی کے لب سے آہ جو نکلی تو دو ہوئی ( ١٨٧٥ء، دبیر(نوراللغات، ٤٩١:١) ) ٣٠ - ثبوت، دلیل، سبب۔ بات کیا چاہیے جب مفت کی حجت ٹھہری اس گنہ پر مجھے مارا کہ گنہ گار نہ تھا ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٣٨ ) ٣١ - صورت حال۔ دن کٹ گیا فراق کا لو رات آگئی میں جس سے ڈر رہا تھا وہی بات آگئی ( ١٩١٠ء، گل کدہ، عزیز، ١٠٩ ) ٣٢ - لطف، مزہ۔ "آج ابھی سے بھوک لگ رہی ہے خدا کا شکر ہے رات کو نیند بھی اچھی آئے تب بات ہے۔" ( ١٩١٧ء، خطوط حسن نظامی، ٤١:١ ) ٣٣ - فعل، کام۔ ہونے کو تو کیا ان سے ملاقات نہ ہو گی جس بات کی خواہش ہے وہی بات نہ ہو گی ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٦٦ ) ٣٤ - گلہ، شکوہ، شکایت۔ "وقت نکل جاتا ہے بات رہ جاتی ہے۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٩١:١ ) ٣٥ - حاجت، ضرورت۔ جب زبانی مرے اور اس کے لگے ہونے کلام پر وہ جب اٹھ گیا پھر کیا رہی تحریر کی بات ( ١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٤٩١:١ ) ٣٧ - مرثیہ، حیثیت، منصب۔ ہوں مقرب پہ فرشتوں کو یہ حاصل نہیں بات ان سے رتبے میں فزوں تر ہے بس اللہ کی ذات ( ١٩٣١ء، محب، مراثی، ٢٢ ) ٣٨ - حادثہ، کیفیت، واردات۔ کل سے وہ اداس اداس ہیں کچھ شاید کوئی بات ہو گئی ہے ( ١٩٧٥ء، حکایت نے، ٦٨ ) ٣٩ - تدبیر، علاج۔ "مریض کی طبیعت ایسی خراب ہے کہ حکیم صاحب کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٩٢:١ ) ٤٠ - معاملہ، مسئلہ، سوال۔ "یار دیکھنا! یہ تو تلوار چلنے کی بات ہے۔" ( ١٩٣٥ء، آغا حشر، اسیر حرص، ٣١ ) ٤١ - شے، چیز، سامان، اسباب۔ "تمھارے یہاں کس بات کی کمی ہے۔" ( ١٨٩٨ء، مخزن المحاورات، ٧٧ ) ٤٢ - بولی، طعنہ، طنز، تشنیع۔ "مجھ کو کسی کی بات کی برداشت نہیں۔" ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٣٤٢:١ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ ہے 'واتترا' ہے اردو زبان میں اس سے ماخوذ 'بات' مستعمل ہے ہندی میں بھی 'بات' ہی مستعمل ہے دونوں کا ماخذ سنسکرت ہی ہے۔ ١٥٩٩ء میں "کتاب نورس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - امر، معاملہ۔ "آپ نے کتاب . بھیجنے کا وعدہ کیا تھا . آپ کے حافظے سے یہ بات اتر گئی۔" ( ١٩٢٧ء، ) ٤ - خیال۔ "میرے دل میں اک بات آئی ہے۔" ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ابوالحسن منصور، ١٥:٦ ) ١١ - حالت، کیفیت۔ "پانچ پیسوں کے لیے بلک رہی تھی . مجھے کیا خبر تھی کہ . اس کی یہ گت ہو جائے گی۔ میرے چلتے وقت گو وہ بات نہ رہی تھی مگر پھر بھی یہ ہدڑا تو نہ تھا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٢٩ ) ١٢ - طریقہ، روش، دستور، طور۔ "عیسائی مذہب کی ایک یہ بات بھی میرے ذہن میں کھٹکتی ہے۔" ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ١١٠ ) ١٣ - آبرو، عزت، ساکھ، بھرم۔ "سید کاظم نے فاقے قبول کیے، مگر باپ کی بات کو ہاتھ سے نہ دیا۔" ١٤ - منگنی، لڑکی کی شادی کا پیام سلام، بیاہ کی نسبت۔ "بچی کو دیکھ دیکھ کر اس کے ہوش اڑے جاتے تھے مگر کوئی بات ڈھنگ کی نہ ملتی تھی۔" ( ١٩٢٩ء، تمغہ شیطانی، ٦ ) ١٧ - عہد، قول و قرار، قسم، پیمان۔ "کچھ ہی ہو، بات ہے تو سب کچھ ہے۔ اب تو جو عہد کر لیا، خدا نے چاہا تو اس فتنے کو کبھی منہ نہ لگاؤں گا۔" ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ٥٠ ) ٢٥ - امر نازیبا، ناشائستہ عمل، قابل اعتراض فعل۔ "اس نے تو ایسی بات کی، جس نے ہمارے خاندان کی عزت کو خاک میں ملا دیا۔" ٢٦ - نصیحت، پند، مشورہ۔ "کوئی ہے جو سو روپے میں ایک بات خریدے۔" ( ١٩٦٣ء، ساڑھے تین یار، ١٠٨ ) ٣٢ - لطف، مزہ۔ "آج ابھی سے بھوک لگ رہی ہے خدا کا شکر ہے رات کو نیند بھی اچھی آئے تب بات ہے۔" ( ١٩١٧ء، خطوط حسن نظامی، ٤١:١ ) ٣٤ - گلہ، شکوہ، شکایت۔ "وقت نکل جاتا ہے بات رہ جاتی ہے۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٩١:١ ) ٣٦ - خواہش، تمنا، آرزو۔ "یہ بات جی میں رہ گئی تم سے نہ مل سکے۔" ٣٩ - تدبیر، علاج۔ "مریض کی طبیعت ایسی خراب ہے کہ حکیم صاحب کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٩٢:١ ) ٤٠ - معاملہ، مسئلہ، سوال۔ "یار دیکھنا! یہ تو تلوار چلنے کی بات ہے۔" ( ١٩٣٥ء، آغا حشر، اسیر حرص، ٣١ ) ٤١ - شے، چیز، سامان، اسباب۔ "تمھارے یہاں کس بات کی کمی ہے۔" ( ١٨٩٨ء، مخزن المحاورات، ٧٧ ) ٤٢ - بولی، طعنہ، طنز، تشنیع۔ "مجھ کو کسی کی بات کی برداشت نہیں۔" ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٣٤٢:١ )