باختہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - معطل، اُڑا ہوا، گم (حواس یا رنگ وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "گال پر ہاتھ دھرے افسوس میں بیٹھی ہے، رنگ رو باختہ، جنون کی ساختہ و پرداختہ۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٤٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'باختن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'ہ' بطور لاحقہ حالیہ تمام لگانے سے 'باختہ' بنا جوکہ فارسی صیغہہ حالیہ تمام ہے اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٥٤ء میں ریاض غوثیہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - معطل، اُڑا ہوا، گم (حواس یا رنگ وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "گال پر ہاتھ دھرے افسوس میں بیٹھی ہے، رنگ رو باختہ، جنون کی ساختہ و پرداختہ۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٤٦١ )

اصل لفظ: باختن