بادشاہی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بادشاہ کا اسم کیفیت، حکومت، سلطنت۔ "کوئی بادشاہی تخت پر تو میں بیٹھی ہی نہیں تھی کہ لٹائے جاتی اور افسانہ کرتی۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٦٠ ) ١ - بادشاہ سے منسوب، بادشاہوں جیسی۔ "وہ بادشاہی تدبیروں میں ایسے تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ حیران ہوتے تھے۔"      ( ١٩١٦ء، میلادنامہ، ١١٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بادشاہ' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے مطابق 'ی' بطور لاحقہ کیفیت یا بطور لاحقہ نسبت لگانے سے 'بادشاہی' بنا۔ اردو میں بطور اسم اور بطور اسم صفت دونوں طرح مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بادشاہ کا اسم کیفیت، حکومت، سلطنت۔ "کوئی بادشاہی تخت پر تو میں بیٹھی ہی نہیں تھی کہ لٹائے جاتی اور افسانہ کرتی۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٦٠ ) ١ - بادشاہ سے منسوب، بادشاہوں جیسی۔ "وہ بادشاہی تدبیروں میں ایسے تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ حیران ہوتے تھے۔"      ( ١٩١٦ء، میلادنامہ، ١١٠ )

اصل لفظ: بادشا
جنس: مؤنث