بادلا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سونے چاندی کے چپٹے تار جو گوٹا بننے اور کلابتوں بٹنے کے کام آتے ہیں۔  ہے سنہری رنگ کا یہ ہالہ گرد ماہتاب بادلہ تجھ دور دامن میں نہیں سنجاف کا      ( ١٧٩٢ء، محب، دیوان (ق)، ٢٤ ) ٢ - زری کا کپڑا جو ریشم اور چاندی کے تاروں سے بنا جاتا ہے، زربغت، تمامی، زری۔  پھیلی جو چار سمت تجلی مصطفٰی بچھی زمین پہ چاندنی گردوں پہ بادلا      ( ١٩٦٥ء، اطہر، گلدستہ اطہر، ٤٦:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'واردر' ہے اردو زبان میں اس سے ماخوذ اصلی معنی میں ہی 'بادلا' مستعمل ہے۔ ١٧٤٦ء میں "قصہ مہر افروز و دلیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: واردر
جنس: مذکر