باراہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ ہند ]  (لفظاً) سور، (مراداً) دشنو کا تیسرا اوتار جو سور کے روپ میں ظاہر ہوا تھا۔"  بن کے باراہ خود اس وقت کرم فرمایا راحت و امن کا سامان بہم فرمایا     "پھر باراہ یعنی سور بن کر دنیا کو ایک اسر سے جو اس کو سمندر میں لیے جاتا تھا، بچایا۔"      ( ١٩٥٢ء، کمار سمبھو، ١١٧ )( ١٨٦٨ء، رسوم ہند، ١٥ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وراہ' سے ماخوذ اردو میں 'باراہ' مستعمل ہے۔ اصلی معنی میں ہی یعنی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٩٧ء میں "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ہند ]  (لفظاً) سور، (مراداً) دشنو کا تیسرا اوتار جو سور کے روپ میں ظاہر ہوا تھا۔"  بن کے باراہ خود اس وقت کرم فرمایا راحت و امن کا سامان بہم فرمایا     "پھر باراہ یعنی سور بن کر دنیا کو ایک اسر سے جو اس کو سمندر میں لیے جاتا تھا، بچایا۔"      ( ١٩٥٢ء، کمار سمبھو، ١١٧ )( ١٨٦٨ء، رسوم ہند، ١٥ )

اصل لفظ: وراہ
جنس: مذکر