بارش
معنی
١ - مینھ۔ "میں دیکھ رہا ہوں کہ تمھارے گھروں پر بارش کی طرح فتنے برس رہے ہیں۔ ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٤٣:٣ ) ٢ - مینھ برسنے یا برسانے کا عمل۔ اک عمر ہو گئی کہ ہے بارش میں چشم تر اب تک نہ کوئی نخل تمنا ہرا ہوا ( ١٩٢٤ء، تجلائے شہاب ثاقب، ٤٤ ) ٣ - برسات کا موسم۔ "بارش کے زمانے میں بھی بمبئی کی سڑکوں پر کیچڑ نہیں ہوتی۔" ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٢٠٣:٢ ) ٤ - کسی کیفیت یا شے کا کسی پر بہتات کے ساتھ نزول۔ وہ تیروں کی بارش وہ یداللہ کا جانی جو بیس پہر گزرے کہ پایا نہیں پانی ( ١٩٤٣ء، مرثیۂ نجم (مصور حسین)، ٧ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مصدر 'باریدن' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مینھ۔ "میں دیکھ رہا ہوں کہ تمھارے گھروں پر بارش کی طرح فتنے برس رہے ہیں۔ ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٤٣:٣ ) ٣ - برسات کا موسم۔ "بارش کے زمانے میں بھی بمبئی کی سڑکوں پر کیچڑ نہیں ہوتی۔" ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٢٠٣:٢ )