باریکی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - پتلا پن، نازکی، لطافت، پیچیدگی، باریک کا اسم کیفیت۔ پھیلتی جا رہی ہے تاریکی دیکھ اس میں ہے ایک باریکی ( ١٩١٩ء، کیفی، کیف سخن، ١٢١ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم صفت 'باریک' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'باریکی' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: بارِیک
جنس: مؤنث