بازارن
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - وہ (عورت) جو جنس بازار ہو، بازاری عورت، بدکار، رنڈی۔ "موئی بازارن، تو جب دھگڑے کرتی ہے تو نہیں کہتی۔" ( ١٨٨٨ء، انتخاب طلسم ہوشربا، ٢٦٦:٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بازار' کے ساتھ 'ن' بطور لاحقۂ تانیث لگنے سے 'بازارن' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٨ء میں "انتخاب طلسم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ (عورت) جو جنس بازار ہو، بازاری عورت، بدکار، رنڈی۔ "موئی بازارن، تو جب دھگڑے کرتی ہے تو نہیں کہتی۔" ( ١٨٨٨ء، انتخاب طلسم ہوشربا، ٢٦٦:٣ )
اصل لفظ: بازار
جنس: مؤنث