بازو
معنی
١ - (جسم انسان میں) کہنی سے شانے تک کا حصہ (خصوصاً وہ جہاں مچھلی ہوتی ہے)، ڈنڈ۔ "لکڑی کو بازو کلائی یا ہاتھ کے ایک کنارے پر باندھ دیا جائے۔" ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٢٢١ ) ٢ - پرند کے دونوں پنکھوں میں سے ہر ایک، پرند کے جسم کا وہ حصہ جس میں شہپر ہوتے ہیں۔ اسیران قفس یہ جان لیں عہد بہار آیا نئے سر سے اگر ہوں بازوؤں میں کچھ نمایاں پر ( ١٩٣٤ء، اعجاز نوح،٨٠ ) ٣ - وہ انگلی نما اعضا جو دریائی جانوروں میں ہوتے ہیں اور ان سے وہ پکڑنے کا کام لیتے ہیں۔ (حیوانیات، 34) "پھاٹک کو مع چوکھٹ بازو کے اکھاڑ کے کندھے پر رکھا۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٢٦٩:٣ ) ٤ - چارپائی کے دونوں جانب کی ہر ایک پٹی۔ (جامع اللغات، 385:1) ٥ - دائیں یا بائیں طرف کا حصہ، جلو، پہلو۔ "کمرے کے دونوں بازوؤں پر دو چھوٹے چھوٹے حجرے ہیں۔" ( ١٩٣٣ء، روحانی شادی، ٢ ) ٦ - فوج کا میمنہ یا میسرہ، لشکر کا ایک حصہ۔ "گرانڈ ڈیوک اآف ویلمر پروشیا کی افواج میں سے ایک بازو کا جنرل تھا۔" ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١٧٤:٣ ) ٧ - وہ شخص جو گویے یا مرثیہ خواں کے ساتھ آس لگاتا ہے۔ میں اکیلا اپنے غم کی شرح کر سکتا نہیں کوئی مثل مرثیہ خواں چاہیے بازو مجھے ( ١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ١٥٩:٢ ) ٨ - بھائی۔ بازو کے ساتھ ٹوٹ گیا آہ دل مرا کرتا ہے اس حیات سے اکراہ دل مرا ( ١٩٣٠ء، فراست، مرثیہ، ١ ) ٩ - معاون، مددگار، ناصر، رفیق۔ "یہی وڈیرے ہمارے بازو ہیں اور ہر مشکل میں ریاست کے کام آتے ہیں۔" ( ١٩٥٨ء، سہ روزہ 'مراد' خیرپور، ٣٠ مئی، ٣ ) ١٠ - بازو بند۔ "رانگ کانسی پیتل کا زیور - کنگن، بازو - چہیں، پچھلی، یہ سب زیور میلے اور گھسے پہنے۔" ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٢٧ ) ١١ - لباس خصوصاً انگیا کا وہ حصہ جو کہنی سے شانے تک ہوتا اور بغلوں کو بھی چھپاتا ہے۔ الٰہی کوڑھ ٹپکے ایسی مغلانی کے ہاتھوں میں کتر کے کر دیا غارت مری انگیا کے بازو کو ( ١٨٧٩ء، جان صاحب، دیوان، ١٧١:١ ) ١٢ - قوت، طاقت۔ اے بے زبانوں کی زبانو! بے بسو کے بازوو تعلیم نسواں کی مہم جو تم کو اب پیش آئی ہے ( ١٩٠٥ء، کلیات نظم حالی، ١٤٢:٢ ) ١٣ - دو مخالف سیاسی گروہوں میں سے ہر ایک (دایاں اور بایاں کے ساتھ مستعمل)۔ ١٤ - [ تصوف ] اعمال سالک جو نفسانیت سے مبرا و معرا ہوں۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 55)
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (جسم انسان میں) کہنی سے شانے تک کا حصہ (خصوصاً وہ جہاں مچھلی ہوتی ہے)، ڈنڈ۔ "لکڑی کو بازو کلائی یا ہاتھ کے ایک کنارے پر باندھ دیا جائے۔" ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٢٢١ ) ٣ - وہ انگلی نما اعضا جو دریائی جانوروں میں ہوتے ہیں اور ان سے وہ پکڑنے کا کام لیتے ہیں۔ (حیوانیات، 34) "پھاٹک کو مع چوکھٹ بازو کے اکھاڑ کے کندھے پر رکھا۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٢٦٩:٣ ) ٥ - دائیں یا بائیں طرف کا حصہ، جلو، پہلو۔ "کمرے کے دونوں بازوؤں پر دو چھوٹے چھوٹے حجرے ہیں۔" ( ١٩٣٣ء، روحانی شادی، ٢ ) ٦ - فوج کا میمنہ یا میسرہ، لشکر کا ایک حصہ۔ "گرانڈ ڈیوک اآف ویلمر پروشیا کی افواج میں سے ایک بازو کا جنرل تھا۔" ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١٧٤:٣ ) ٩ - معاون، مددگار، ناصر، رفیق۔ "یہی وڈیرے ہمارے بازو ہیں اور ہر مشکل میں ریاست کے کام آتے ہیں۔" ( ١٩٥٨ء، سہ روزہ 'مراد' خیرپور، ٣٠ مئی، ٣ ) ١٠ - بازو بند۔ "رانگ کانسی پیتل کا زیور - کنگن، بازو - چہیں، پچھلی، یہ سب زیور میلے اور گھسے پہنے۔" ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٢٧ )