بازی
معنی
١ - کھیل، تماشا، کرتب۔ لہو و بازی میں ساتھ رہتا تھا ہر گھڑی نرم و گرم سہتا تھا ( ١٩١١ء،کلیات اسماعیل، ٧٣ ) ٢ - تاش گنجفے شطرنج وغیرہ کا کھیل۔ "نہ صرف یہ کہ شطرنج کے ماہر تھے بلکہ فرش پر بیٹھ کر کھیلے جانے والی تمام بازیوں میں دور دور اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔" ( ١٩٦٢ء، سہ روزہ 'مراد' خیرپور، ٧ جنوری، ٤ ) ٣ - گنجفے وغیرہ کے کھیل کا پورا داؤ۔ "تیمور اپنے بیٹے کے ساتھ چوسر کھیل رہا تھا، - حکم دیا کہ قیدی منتظر رہے، ہم اپنی بازی ختم کر لیں۔" ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٤٦ ) ٤ - [ استعارۃ ] وہ چال جو کھیل وغیرہ میں چلی جائے، دات۔ اب صفائی رات بھر منت سے ان سے کیجیے بازیاں سب مٹ چکی ہیں دانو ڈالا چاہیے ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، واجد علی شاہ، ٨٩٩ ) ٥ - تاش یا گنجفے کے پتے یا شطرنج وغیرہ کی گوٹیں جو بانٹ میں کسی کھلاڑی کو ملیں، بانٹ کے بعد ہمرنگ پتے۔ "سفید بازی چونکہ خانصاحب لیتے تھے لہٰذا پیدل کی جگہ اپنی انگوٹھی رکھ دیتے۔" ( ١٩٣٢ء، روح ظرافت، ١١٤ ) ٦ - شرط، مقابلہ، (اکثر ہار جیت کے ساتھ)۔ "آنحضرت کی سواری کا ایک گھوڑا تھا - ایک دفعہ اس کو آپ نے بازی میں دوڑایا، اس نے بازی جیتی تو آپ کو خاص مسرت ہوئی۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٠٨:٢ ) ٧ - وہ چیز جو کوئی شخص شرط میں ہار جائے، زرشرط۔ (نوراللغات، 536:1؛ پلیٹس) ٨ - چال، فریب۔ قامت فتنہ خیز کو خواہش حشر کس لیے بازی نو کی فکر میں نرگس نیم باز کیوں ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ١٩٠ ) ٩ - کبوتر کا پلٹیاں کھانا، کبوتر کے پلٹیاں کھانے یا کلا کرنے کا عمل، کبوتر کا گرہ کرنا (بیشتر کابلی کبوتر کے لیے مستعمل)۔ (ماخوذ نوراللغات، 536:1) ١٠ - غلبہ، جیت۔ (فرہنگ آصفیہ، 352:1) ١١ - وہ جدوجہد جس میں یہ یقین نہ ہو کہ نفع ہو گا یا نقصان، امید و بیم کی حالت کا کام۔ مری بازی کا منصوبہ گیا کب کا پلٹ یارو خبر تم کو بھی ہے کچھ اے مری چالوں سے بیگانو ( ١٩٠٨ء، مقالات حالی، ٨٥:٢ ) ١٢ - [ تصوف ] توجہ خالص اور جذبہ حقانی، جس کے سبب سے سالک کا دل متغیر نہیں ہوتا اور طلب حق میں استوار اور سرگرم رہتا ہے۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 54)
اشتقاق
فارسی زبان میں مصدر باختن سے مشتق صیغۂ امر 'باز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ لگنے سے حاصل مصدر 'بازی' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے سہ ماہی 'اردو' کے حوالے سے "بابا فرید" کے ہاں ١٢٦٥ء میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - تاش گنجفے شطرنج وغیرہ کا کھیل۔ "نہ صرف یہ کہ شطرنج کے ماہر تھے بلکہ فرش پر بیٹھ کر کھیلے جانے والی تمام بازیوں میں دور دور اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔" ( ١٩٦٢ء، سہ روزہ 'مراد' خیرپور، ٧ جنوری، ٤ ) ٣ - گنجفے وغیرہ کے کھیل کا پورا داؤ۔ "تیمور اپنے بیٹے کے ساتھ چوسر کھیل رہا تھا، - حکم دیا کہ قیدی منتظر رہے، ہم اپنی بازی ختم کر لیں۔" ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٤٦ ) ٥ - تاش یا گنجفے کے پتے یا شطرنج وغیرہ کی گوٹیں جو بانٹ میں کسی کھلاڑی کو ملیں، بانٹ کے بعد ہمرنگ پتے۔ "سفید بازی چونکہ خانصاحب لیتے تھے لہٰذا پیدل کی جگہ اپنی انگوٹھی رکھ دیتے۔" ( ١٩٣٢ء، روح ظرافت، ١١٤ ) ٦ - شرط، مقابلہ، (اکثر ہار جیت کے ساتھ)۔ "آنحضرت کی سواری کا ایک گھوڑا تھا - ایک دفعہ اس کو آپ نے بازی میں دوڑایا، اس نے بازی جیتی تو آپ کو خاص مسرت ہوئی۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٠٨:٢ )