باسا
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - جائے سکونت، وطن، بود و باش کی جگہ۔ جس قصر میں بہرام نے تھا رنگ رچا اب شیر کا بھٹ ہے وہ ہرن کا باسا ( ١٩٢٧ء، مے خانۂ خیام، ١٠ ) ٢ - قیام، سکونت، پڑاؤ (عارضی یا دائمی)۔ دنیا ہے ساعت کا باسا اس جینے کا چھوڑ دو آسا ( ١٨٥١ء، مورک سمجھاوے، ٥ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'واس' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں اصلی معنی میں ہی 'باسا' مستعمل ہے۔ ١٥٥٢ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ہے۔
اصل لفظ: واس
جنس: مذکر