باشد

قسم کلام: حرف فجائیہ

معنی

١ - ہواکرے، پروا نہیں، ہو گا (اظہار بے پروائی کے لیے)۔  رقیبوں کو تمنا ہے تو باشد تمھیں مطلب پرائی آرزو سے      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ٨١ ) ٢ - ہو، ایسا ہی ہو۔ عیب اور صواب دونوں پائے جاتے ہوں تو صواب کا اشارہ بھی تنقید میں ہونا چاہیے، قلیل باشد خواہ کثیر۔      ( ١٩٣٠ء، سہ ماہی، اردو، ١٠، ٤٠،: ٧٣٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر بودن سے فعل مضاع مشتق ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور حرف مستعمل ہے۔ ١٨٣٩ء میں "تواریخ راسلس شہزادہ حبش کی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: بودن