باصواب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - راستی اور خیر و خوبی پر مبنی، درست، ٹھیک (عموماً رائے یا جواب وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ 'اظہار حال میں دو شرطیں کر لوں گی اور بعد منظوری جواب باصواب دوں گی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٦:١ )

اشتقاق

فارسی حرف جار اور عربی اسم سے مرکب ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں 'خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - راستی اور خیر و خوبی پر مبنی، درست، ٹھیک (عموماً رائے یا جواب وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ 'اظہار حال میں دو شرطیں کر لوں گی اور بعد منظوری جواب باصواب دوں گی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٦:١ )