باغیچہ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - چھوٹا سا باغ، پھلواری۔ "ایک باغیچہ ہے اور اس میں ایک نوجوان لڑکی گلاب کی ٹہنی کو پکڑے کھڑی ہے۔" ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٣١ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'باغ' کے ساتھ لاحقۂ اتصال 'ی' لگانے کے بعد 'چہ' بطور لاحقۂ تصغیر لگانے سے 'باغیچہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧١ء میں "رسالۂ علم جغرافیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھوٹا سا باغ، پھلواری۔ "ایک باغیچہ ہے اور اس میں ایک نوجوان لڑکی گلاب کی ٹہنی کو پکڑے کھڑی ہے۔" ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٣١ )
اصل لفظ: باغ
جنس: مذکر