بالوشاہی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - میدے کی بنی ہوئی ایک قسم کی خستہ مٹھائی جو اوسط قد کی پھلکی کے برابر ہوتی ہے۔ "نام خدا برس دن کا بچہ ہوا بالو شاہی منگائیے۔"      ( ١٩١١ء، قصۂ مہر افروز، ٦٨ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بالو' اور فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت'شاہی' سے مل کر مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٠ء میں 'نظیر اکبر آبادی' کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - میدے کی بنی ہوئی ایک قسم کی خستہ مٹھائی جو اوسط قد کی پھلکی کے برابر ہوتی ہے۔ "نام خدا برس دن کا بچہ ہوا بالو شاہی منگائیے۔"      ( ١٩١١ء، قصۂ مہر افروز، ٦٨ )

جنس: مؤنث