بالکا
معنی
١ - بچہ، شیرخوار بچہ، کم سن بچہ۔ "خوبصورت . بالکے یہیں نہیں سارے شام . میں فتنۂ روزگار بنے ہوئے تھے۔" ( ١٩٢٦ء، نیکی کا پھل، ٣٣ ) ٢ - مرید، چیلا۔ "مندر کے برآمدے میں بیٹھا باوا جی کا بالکا . لکڑوں کی دھوئیں تاپ رہا تھا۔" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ١٩٦ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'بالک' سے ماخوذ 'بالکا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٧ء کو "کلیات بحری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بچہ، شیرخوار بچہ، کم سن بچہ۔ "خوبصورت . بالکے یہیں نہیں سارے شام . میں فتنۂ روزگار بنے ہوئے تھے۔" ( ١٩٢٦ء، نیکی کا پھل، ٣٣ ) ٢ - مرید، چیلا۔ "مندر کے برآمدے میں بیٹھا باوا جی کا بالکا . لکڑوں کی دھوئیں تاپ رہا تھا۔" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ١٩٦ )