بان
معنی
١ - بناوٹ، ڈھنگ، شکل، مزاج، خاصیت (اکثر آن کے ساتھ بطور تابع مستعمل) اس آن بان سے سوے لشکر رواں ہوئے غل تھا کہ لو علی ولی پھر جواں ہوئے ( ١٩٣٦ء، مراثی تسیم، ١٧٢:٢ ) ٢ - عادت، خصلت، خو، سبھاو۔ "جیسی بان ڈالوں گے ویسی پڑے گی۔" ( ١٩٢٤ء، نورالغات، ٥٥:١ ) ٤ - ہندوؤں کی ایک رسم جس کے بموجب دولھا دلھن شادی سے پہلے تین سے گیارہ دفعہ تک نہلائے جاتے ہیں اور چند روز مکان کے کسی کمرے میں بٹھا دے جاتے ہیں اور ان کے ابٹنا وغیرہ ملا جاتا ہے، مانجا، مائیاں، مائیوں بٹھانے کی رسم۔ "پہلے ہی بان کی رسم پوری کر چکے تھے۔" ( ١٩٢٠ء، ماہنامہ، انتخاب لاجواب، ٢٦ دسمبر، ٥ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'ورٹ' ہے اردو زبان میں اسے سے ماخوذ بان مستعمل ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٣ء کو 'نہال چند' کی "مذہب عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - عادت، خصلت، خو، سبھاو۔ "جیسی بان ڈالوں گے ویسی پڑے گی۔" ( ١٩٢٤ء، نورالغات، ٥٥:١ ) ٤ - ہندوؤں کی ایک رسم جس کے بموجب دولھا دلھن شادی سے پہلے تین سے گیارہ دفعہ تک نہلائے جاتے ہیں اور چند روز مکان کے کسی کمرے میں بٹھا دے جاتے ہیں اور ان کے ابٹنا وغیرہ ملا جاتا ہے، مانجا، مائیاں، مائیوں بٹھانے کی رسم۔ "پہلے ہی بان کی رسم پوری کر چکے تھے۔" ( ١٩٢٠ء، ماہنامہ، انتخاب لاجواب، ٢٦ دسمبر، ٥ )