بانا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پوشاک، لباس، پہناوا۔ "دیہاتی کلاہیں ہندو بانا (دھوتی، ساری) بیاہ کی رسمیں - اور بہت سی دوسری باتیں پہلے سے چلی آ رہی ہیں۔"    ( ١٩٧١ء، اردو کا روپ، ٤٩ ) ٢ - خاص وضع قطع تراش خراش یا رنگ کا ملبوس جس سے عہدے منصب یا قوم قبیلے وغیرہ کا امتیاز ہو، وری، یونیفارم۔ "اس نے اپنے پچیس جاں بازوں کو تیار ہونے کا حکم دیا خود سپاہیانہ بانا سجایا۔"    ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ٨٨:١ ) ٣ - بھیس، روپ بہروپ۔ "سوداگری بانے میں شہر میں داخل ہوئے۔"    ( ١٩١٠ء، بزم اکبری، ٣١:١ ) ٤ - حرفہ، پیشہ، کسب معیشت۔ (فرہنگ آصفیہ، 358:1) ٥ - عادت، شعار، طریقہ، چلن، ریت، شیوہ۔  آرزو چپ ہو صورت تصویر عشق کا اک یہی ہے بانا کیا      ( ١٩٢٦ء، فغان آرزو، ٥٤ ) ٦ - شکل، صورت، رنگ۔ (نوراللغات، 550:1)

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ ورٹک ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'بانا' مستعمل ہے۔ اصلی معنی یعنی بطور اسم ہی مستعمل ہے۔ ١٧٣٦ء میں 'ہاشم علی' کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پوشاک، لباس، پہناوا۔ "دیہاتی کلاہیں ہندو بانا (دھوتی، ساری) بیاہ کی رسمیں - اور بہت سی دوسری باتیں پہلے سے چلی آ رہی ہیں۔"    ( ١٩٧١ء، اردو کا روپ، ٤٩ ) ٢ - خاص وضع قطع تراش خراش یا رنگ کا ملبوس جس سے عہدے منصب یا قوم قبیلے وغیرہ کا امتیاز ہو، وری، یونیفارم۔ "اس نے اپنے پچیس جاں بازوں کو تیار ہونے کا حکم دیا خود سپاہیانہ بانا سجایا۔"    ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ٨٨:١ ) ٣ - بھیس، روپ بہروپ۔ "سوداگری بانے میں شہر میں داخل ہوئے۔"    ( ١٩١٠ء، بزم اکبری، ٣١:١ )

اصل لفظ: ورٹک
جنس: مذکر