بانجھ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - وہ عورت جس کو حمل نہ رہے، عقیم۔ "منوحہ کی بی بی بانجھ اور اولاد سے مایوس تھی۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٢٦٤:٣ ) ٢ - [ مجازا ]  وہ مرد جس سے حمل نہ رہے، بے اولاد کا، جو اولاد سے محروم ہو۔ "نروں کو بانجھ کر کے ان کی نسل کشی روک دی جاتی ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٢٤ ) ٣ - پھل کا درخت جو بارآور نہ ہوتا ہو، درخت بے ثمر۔ "ان میں سے ایک آدمی میوے کے کسی بانجھ درخت کو ڈرانے کے لیے اس پر کلہاڑی گھمانے لگتا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٢٣٣:١ ) ٤ - بیکار، فضول، بے مقصد، بے نتیجہ۔ "انڈیا میں ایک مصنوعی پبلک او پی نین جو عقیم (بانجھ) - ہوتی ہے - وہ جھاگوں کی آواز سے کچھ ہی زیادہ ہوتی ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٦٩ ) ٥ - بنجر زمین، اوسر، شور۔ (فرہنگ آصفیہ، 359:1؛ نوراللغات، 551:1) ٦ - وہ مادہ جانور یا کیڑا جس کے بچہ نہ ہو۔ "اعلٰی شدت والی تیز روشنی کی چمک سے حشرات نہ صرف یہ کہ ہلاک ہو جاتے ہیں بلکہ وہ بانجھ بھی ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٥ء، ماہنامہ، کاروان سائنس، ١١١:٣:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'بندھنا' سے ماخوذ اردو میں 'بانجھ' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٤١٩ء میں "ادات الفضلا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ عورت جس کو حمل نہ رہے، عقیم۔ "منوحہ کی بی بی بانجھ اور اولاد سے مایوس تھی۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٢٦٤:٣ ) ٢ - [ مجازا ]  وہ مرد جس سے حمل نہ رہے، بے اولاد کا، جو اولاد سے محروم ہو۔ "نروں کو بانجھ کر کے ان کی نسل کشی روک دی جاتی ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٢٤ ) ٣ - پھل کا درخت جو بارآور نہ ہوتا ہو، درخت بے ثمر۔ "ان میں سے ایک آدمی میوے کے کسی بانجھ درخت کو ڈرانے کے لیے اس پر کلہاڑی گھمانے لگتا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٢٣٣:١ ) ٤ - بیکار، فضول، بے مقصد، بے نتیجہ۔ "انڈیا میں ایک مصنوعی پبلک او پی نین جو عقیم (بانجھ) - ہوتی ہے - وہ جھاگوں کی آواز سے کچھ ہی زیادہ ہوتی ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٦٩ ) ٦ - وہ مادہ جانور یا کیڑا جس کے بچہ نہ ہو۔ "اعلٰی شدت والی تیز روشنی کی چمک سے حشرات نہ صرف یہ کہ ہلاک ہو جاتے ہیں بلکہ وہ بانجھ بھی ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٥ء، ماہنامہ، کاروان سائنس، ١١١:٣:٢ )

اصل لفظ: بندھنا