باندا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی درخت پر اگی ہوئی کوئی اور روئیدگی جو اس درخت کی غذا سے خوراک حاصل کرتی اور اسے نقصان پہنچاتی ہے، بیشتر آکاس بیل۔ "جس درخت پر باندا لگے وہ درخت کم پھیلتا ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٢١٩ ) ٢ - بنڈے کی شکل کی گرہ جو آم کی بعض شاخوں میں پڑ جاتی ہے اور جس کے بعد نکلے ہوئے پتے آم کے پتوں سے مختلف ہوتے ہیں، بانا۔ "کھوپڑی میں باندا لگے آم کی طرح گمڑیاں۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٣٥ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وندا' سے ماخوذ اردو زبان میں 'باندا' مستعمل ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٨ء میں "توصیف زراعات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی درخت پر اگی ہوئی کوئی اور روئیدگی جو اس درخت کی غذا سے خوراک حاصل کرتی اور اسے نقصان پہنچاتی ہے، بیشتر آکاس بیل۔ "جس درخت پر باندا لگے وہ درخت کم پھیلتا ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٢١٩ ) ٢ - بنڈے کی شکل کی گرہ جو آم کی بعض شاخوں میں پڑ جاتی ہے اور جس کے بعد نکلے ہوئے پتے آم کے پتوں سے مختلف ہوتے ہیں، بانا۔ "کھوپڑی میں باندا لگے آم کی طرح گمڑیاں۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٣٥ )

اصل لفظ: وندا
جنس: مذکر