بانٹ
معنی
١ - تقسیم کا عمل، بٹوارا۔ "بولی آوازیں دو بھانت کی ہوتی ہیں سر اور اس پر چیخ کی آوازوں میں ایسی کوئی بانٹ نہیں ہوتی۔" ( ١٩٧١ء، اردو کا روپ، مقدمہ، ٩ ) ٢ - حصہ، بخرہ؛ قسمت۔ چین گر اپنی بانٹ میں آتا کیوں تو عورت ذات بناتا ( ١٨٨٤ء، بیوہ کی مناجات، ٨ ) ٣ - [ ریاضی ] خارج قسمت، حاصل قسمت۔ (فرہنگ آصفیہ، 358:1) ٤ - [ کھیل ] گنجفے یا تاش کے پتوں کی تقسیم۔ (نوراللغات،۔ 551:1)
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بانٹنا' سے حاصل مصدر ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٨ء میں "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تقسیم کا عمل، بٹوارا۔ "بولی آوازیں دو بھانت کی ہوتی ہیں سر اور اس پر چیخ کی آوازوں میں ایسی کوئی بانٹ نہیں ہوتی۔" ( ١٩٧١ء، اردو کا روپ، مقدمہ، ٩ )