باولا
معنی
١ - پاگل، دیوانہ سڑی، خبطی۔ "کسی نے کہا دہریہ ہے کسی نے کہاں باولا ہے۔" ( ١٩٢٢ء، مضامین فلک پیما، ٥ ) ٢ - بےوقوف، احمق۔ "کوئی ہندوستانیوں کی طرح باوے تو ہیں نہیں۔" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٣٦ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اسم 'واتل' سے ماخوذ اسم ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پاگل، دیوانہ سڑی، خبطی۔ "کسی نے کہا دہریہ ہے کسی نے کہاں باولا ہے۔" ( ١٩٢٢ء، مضامین فلک پیما، ٥ ) ٢ - بےوقوف، احمق۔ "کوئی ہندوستانیوں کی طرح باوے تو ہیں نہیں۔" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٣٦ )