باپ
معنی
١ - والد، پدر، پتا۔ "شیخو کا کوئی باپ نہیں۔" ( ١٩٢٢ء، انارکلی، ٤١٦ ) ٢ - مربی، پالنے والا۔ "تیرہ سو اکتیس برس سے وہ ساری دنیا کا باپ اور دنیا والے اس کے بچے ہیں۔"١٩١٣ء، انتخاب توحید، حسن نظامی، ١٢ ٣ - مورث، جدّ اعلٰی۔ "یہ ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے ہم تک . کی . تاریخ . ہے۔" ( ١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٢٠٣ ) ٤ - بانی، موجد۔ "سقراط فلسفے کا باپ تسلیم کیا جاتا ہے۔" ( ١٨٩٨ء، مقالات شبلی، ٤١:٦ ) ٥ - بہت بڑا، بہت زیادہ بڑھا چڑھا ہوا۔ "جی نقصان نہیں، نقصان کا باپ ہو جائے۔" ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ١١٢ ) ٦ - [ مسیحی ] خدا۔ "آسمان پو رہتا ہے سو ہما نرا باپ۔" ( ١٧٤١ء، ہندوستانی گرامر، شلزے، ١٣٠ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'بپت' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'باپ' مستعمل ہے ہندی میں بھی 'باپ' ہی مستعمل ہے۔ دونوں کا ماخذ سنسکرت ہی ہے اردو میں ١٥٠٣ء، میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - والد، پدر، پتا۔ "شیخو کا کوئی باپ نہیں۔" ( ١٩٢٢ء، انارکلی، ٤١٦ ) ٢ - مربی، پالنے والا۔ "تیرہ سو اکتیس برس سے وہ ساری دنیا کا باپ اور دنیا والے اس کے بچے ہیں۔"١٩١٣ء، انتخاب توحید، حسن نظامی، ١٢ ٣ - مورث، جدّ اعلٰی۔ "یہ ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے ہم تک . کی . تاریخ . ہے۔" ( ١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٢٠٣ ) ٤ - بانی، موجد۔ "سقراط فلسفے کا باپ تسلیم کیا جاتا ہے۔" ( ١٨٩٨ء، مقالات شبلی، ٤١:٦ ) ٥ - بہت بڑا، بہت زیادہ بڑھا چڑھا ہوا۔ "جی نقصان نہیں، نقصان کا باپ ہو جائے۔" ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ١١٢ ) ٦ - [ مسیحی ] خدا۔ "آسمان پو رہتا ہے سو ہما نرا باپ۔" ( ١٧٤١ء، ہندوستانی گرامر، شلزے، ١٣٠ )