باڑھیا
قسم کلام: صفت نسبتی
معنی
١ - ہتھیاروں کی دھار تیز کرنے والا، تلوار وغیرہ کو سان پر رکھنے والا۔ "باڑھیے تلواروں پر باڑھیں رکھ رہے تھے۔" ( ١٨٧٩ء، بوستان خیالی، ٣٢١:٦ )
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ اسم 'باڑھ' کے ساتھ 'یا' بطور لاحقۂ صفت لگنے سے 'باڑھیا' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٩ء میں "بوستان خیال" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہتھیاروں کی دھار تیز کرنے والا، تلوار وغیرہ کو سان پر رکھنے والا۔ "باڑھیے تلواروں پر باڑھیں رکھ رہے تھے۔" ( ١٨٧٩ء، بوستان خیالی، ٣٢١:٦ )
اصل لفظ: باڑھ
جنس: مذکر